تھائیرائیڈ کیا ہے اور یہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں کیسے پھیل رہا ہے۔

آج کل تھائیرائیڈ کا مسئلہ بہت زیادہ پھیل رہا ہے. خاص طور پر پاکستان میں تو لوگ اس سے بالکل ناواقف ہیں۔ کہ یہ مسئلہ ہے کیا اور اسے روکنا کیسے ہے لوگ ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں اپنی صحت برباد کرتے ہیں۔ پیسے اور وقت ضائع کرتے ہیں ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ دراصل یہ مسئلہ ہے کیا اور کیسے آپ چند آسان سے طریقے استعمال کر کے اپنی زندگی میں چند بنیادی تبدیلیاں لاکر اس بیماری سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ تھائیرائیڈ گلینڈ ہماری گردن میں ہماری لچکدار ہڈی کے پیچھے تتلی کی شکل کا ایک گلینڈ ہوتا ہے۔ یہ ایک ہارمون بناتا ہے جسے تھائیرائیڈ ہارمون کہتے ہیں۔ اب یہ تھائیرائیڈ ہارمون کرتا کیا ہے جو غذا ہم کھاتے  اُس سے توانائی یا انرجی ہمیں ملتی ہے۔ یہ اُس انرجی کو کنٹرول کر کے اور جسم کے کئی فنکشن میں اس توانائی کو استعمال کرنے میں مدد دیتا ہے۔تھائرائیڈ ہارمون بنتا ہے آیوڈین کے ساتھ اور اگر ہماری خوراک میں آیوڈین کی کمی ہو جائے تو یہ گلینڈ سوج جاتا ہے یعنی اس میں سویلنگ ہو جاتی ہے۔ اور جو ہارمون یہ بناتا ہے ظاہر ہے کہ وہ بھی ڈسٹرب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اب ہوتا کیا ہے کہ اس وجہ سے جسم میں تھکاوٹ ہوتی ہے بال گرنے لگتے ہیں وزن اچانک کم یا زیادہ ہو جاتا ہے۔ آنکھیں سوجنے لگتی ہے موڈ سونگ شروع ہو جاتے ہیں یعنی کبھی موڈ بہت خراب اور کبھی بالکل ٹھیک۔ یہاں تک کہ ڈپریشن اور بانجھ پن کا مسئلہ بھی پیدا ہونے لگ جاتا ہے اب ہوتا کیا ہے اگر آپ کو خدانخواستہ یہ مسئلہ ہو جائے تو آپ جاتے ہیں ڈاکٹر کے پاس اور ڈاکٹر آپ کو بتاتا ہے کہ اس کا علاج تو کوئی ہے نہیں۔ اور اس کیلئے آپ کو ساری زندگی دوائیاں کھانی پڑے گی کیونکہ جیسے ہی آپ دوائیاں چھوڑتے ہیں تو یہ مسئلہ پھر سے شروع ہو جاتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ تھائیرائیڈ کے مسئلے کا کوئی پکا علاج ہے ہی نہیں۔ اس کو بس کسی نہ کسی طریقے سے مینیج کیا جاتا ہے مسئلہ یقیناََ بہت سنجیدہ ہے لیکن ہم آپ کو بتاتے ہیں پانچ ایسے طریقے جن پر آپ سنجیدگی سے عمل کرلیں تو آپ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس مسئلہ سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ پہلے تو ہم آپ کو یہ بتائیں گے کہ اس مسئلہ کی وجوہات کیا ہیں بڑی بڑی وجوہات میں صحت مند اور متوازن غذا کا استعمال نہ کرنا جسم کو سست رکھنا اور زیادہ تر حرکت نہ دینا پریشان کن زندگی گزارنا اور چونکہ عورتیں مردوں کی نسبت زیادہ حساس ہوتی ہیں۔ اس لئے تقریباََ پندرہ میں سے دو عورتوں کو یہ مسئلہ ہوتا ہے۔ آپ اس سے یہ بھی نہ سمجھ بیٹھے کہ مردوں کو یہ مسئلہ ہو ہی نہیں سکتا۔ سب سے پہلی بات دوائیوں سے جان چھڑوائے جب آپ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو وہ آپ کو گولیاں تو دیتے ہیں لیکن ساتھ  یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ یہ علاج نہیں ہے بلکہ یہ گولیاں صرف مینیجمنٹ کررہی ہے۔ جب تک آپ گولیاں لیتے رہیں گے اس وقت تک آپ کا گزارا چلتا رہے گا۔ دوائیوں کے ہوتے ہیں سائیڈ فیکٹ اور ان دوائیوں کے سائیڈ فیکٹ میں دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے،بال جھڑنے لگتے ہے، جلد پتلی سی ہو جاتی ہے اور جسم میں بہت سے نیو ٹرینس  کی کمی ہو جاتی ہے۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنی صحت کے ساتھ اپنا قیمتی وقت اور پیسہ بھی تباہ کر رہے ہوتے تو اگر واقعی آپ سنجیدہ ہے کہ آپ نے اپنی صحت بچانی ہے تو ان گولیوں کو آپ فوراََ ڈسٹبین میں پھینک دیں۔ دوسری چیزاخروٹ کا تیل، آپ اخروٹ کا تیل استعمال کرکے آپ اس بیماری کا جڑ سے خاتمہ کر سکتے ہیں۔ اب اس کیلئے کرنا کیا ہے کہ آپ لے لیں اخروٹ کا تیل بازار سے آسانی سے مل جاتا ہے لیکن خیال رکھنا ہے کہ سو فیصد خالص تیل لے آپ نے یہ کرنا ہے کہ ہر رات سونے سے پہلے چار سے پانچ قطرے اخروٹ کے تیل کے اپنی ہتھیلی پر نکال لیں اور جس جگہ یہ گلینڈ موجود ہوتا ہے یعنی کہ آپ کی گردن پر وہاں جہاں ٹائی باندھتے ہیں وہاں حلقے ہاتھوں سے مساج کریں رگڑنا نہیں ہے زور نہیں لگانا بلکہ ہلکا ہلکا سا مساج کریں 

 

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.