Further Genetic Mutations Revealed In New Corona Virus.

برطانیہ میں دسمبر 2020 میں کورونا وائرس کی ایک نئی قسم کی دریافت کا اعلان کیا گیا تھا۔ جو کرونا وائرس سے بھی دو گنا زیادہ خطرناک ہے۔ سائنسدانوں کی نئے وائرس پر ایک ریسرچ رپورٹ کے مطابق، نئی قسم میں مزید جینیاتی تبدیلیاں ہورہی ہیں جو پریشان کن ہے۔ جنوبی افریقہ اور برازیل میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی اقسام میں ایک میوٹیشن ای 484 کے کو پہلے ہی دریافت کیا جاچکا ہے جو اب برطانوی قسم کے کچھ نمونوں میں دریافت ہوئی ہے۔

اس رپورٹ میں ماہرین کا کہنا تھا کہ نئے کرونا وائرس میں جینیاتی تبدیلی سے کووڈ ویکسین کی افادیت پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے ماہرین نے کورونا وائرس کی برطانوی قسم کے بارے میں کہنا تھا کہ اس میں انہوں نے میوٹیشن کو دریافت کیا ہے۔ پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے ماہرین کا کہنا تھا کہ ویسے وائرس کی اقسام کا خود کو بدلنے کا عمل غیرمتوقع نہیں۔ ماہرین نے بتایا کہ وائرس میں میوٹیشنز ہوتی ہیں تاکہ وہ خود کو پھیلانے کے عمل کو برقرار رکھ سکیں۔ 

لیسٹرشائر یونیورسٹی کے ڈاکٹر جولیان ٹانگ کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس میں ماحول کے ساتھ بدلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس نئے وائرس کے بارے میں کہنا تھا کہ تمام لوگ حفاطٹی اصولوں پر عمل کریں تاکہ کیسز کی شرح میں کمی لاکر وائرس کو مزید بدلنے سے روکا جاسکے۔ کچھ تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا ہے کہ ای 484 کے میوٹیشن سے وائرس کو مدافعتی نظام کے اینٹی باڈیز حصوں پر حملہ آور ہونے میں مدد مل سکتی ہے اور اس کی مدد سے نئے وائرس پر قابو پا سکتے ہیں۔ 

“مزید پڑھیں “تمباکو نوشی کرنے والے افراد پر کوڈ 19 کا اثر

Leave a Comment