کورونا ویکسین کے منفی اثرات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے

Side effects of corona vaccine should not ignored۔

کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس وائرس کی وجہ سے دنیا میں بہت سی اموات ہوئی ہیں.کورونا وائرس کی وجہ سے دسمبر 2019 سے دنیا کا پہیہ جام ہوا پڑا ہے، تجارتی سرگرمیاں بند، اسکول بند، اہم تقریبات ملتوی اور پروازیں معطل ہیں تاہم اب اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن ویکسین کی شکل میں نظر آئی ہے۔ جدید سائنس کی مدد سے ماہرین طب اس وائرس کی ویکسین بنا تو لی ہے، لیکن اس ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹ بھی ہیں. اس ویکسین کے کچھ ایسے سائیڈ ایفیکٹ ہیں جو عام ہیں اور اس پر فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں لیکن کچھ سائیڈ ایفیکٹس ایسے بھی ہیں جو جسم پر نمودار ہوتے ہی فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیئے۔

کورونا وائرس کیخلاف 6 سے زائد ویکسین آچکی ہیں اور ترقی یافتہ ممالک میں ویکسی نیشن کا آغاز بھی ہوگیا ہے تاہم بے حد ضروری ہے کہ ویکسین کے سائیڈ ایفکٹس سے متعلق بھی معلومات حاصل کرلی جائیں۔

وبائی امراض کے عالمی شہرت یافتہ امریکی ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے ایک رپورٹ کے ذریعے یہ بتایا کے ہر ویکسین کی طرح کورونا ویکسین کے بھی کچھ معمولی مضر اثرات ہوسکتے ہیں۔ جنہیں ہمیں نظر انداز نہیں کرنا۔ اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ عام مضر اثرات دو سے تین روز میں خود ختم ہوجاتے ہیں۔ ان میں جوڑوں میں درد، پٹھوں میں کھینچاؤ، سر درد، تھکاوٹ  اور بخار شامل ہیں تاہم ایک علامت ایسی بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔ اس رپورٹ کے مطابق وہ خطرناک مضر اثر یا علامت جلد پر خارش، پت اچھلنا یا سوزش ہے کیوں کہ یہ علامت عمومی طور پر کسی بھی ویکسین کے لگنے کے بعد ظاہر نہیں ہوتیں۔ اس رپورٹ میں ماہر وبائی امراض فاؤچی کا کہنا تھا کہ جلد پر ان علامات کا مطلب ویکسین میں شامل اجزا سے الرجی ہونا ہوسکتا ہے جو کہ ایک طبی ایمرجنسی ہے اور فوری طور پر متاثر ہونے والے کو اسپتال لے جانا چاہیئے۔

“مزید پڑھیں “تمباکو نوشی کرنے والے افراد پر کرونا کے اثرات۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.