کورونا مریضوں کی جان کے خطرے کے بارے میں تصدیق شدہ معلومات

Test Inform About Corona Patients Life Danger.

کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس وائرس کی وجہ سے دنیا میں بہت سی اموات ہوئی ہیں لیکن جدید سائنس کی مدد سے ماہرین طب ایسا ٹیسٹ ایجاد کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں. جو اس بات کو معلوم کرنے میں مدد کرے گا کہ کورونا کے کون سے مریضوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور کون سے مریضوں کو نہیں. ماہرین طب کا کہنا ہے کہ کووڈ-19 کی وجہ سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ کون سے مریض میں یہ کس حد تک پایا جاتا ہے کیونکہ کئی مریضوں میں ایسی علامتیں ظاہر نہیں ہوتیں جن کی وجہ سے کہ ماہرین طب کے ذہن میں یہ بات ہے کہ ان کا کووڈ کے ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہے. ماہرین طب کا کہنا ہے کہ کووڈ-19 میں مبتلا افراد کئی بار  اپنے قدموں پر چل کر آتے ہیں لیکن اچانک پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور پھر زندہ واپس نہیں جاتے. ان پیچیدگیاں کی زیادہ ہونے کی وجہ سے  محض چار دن سے ایک ہفتے کے درمیان ان کی موت واقع ہوجاتی ہیں اور کئی مریض 14 دن وینٹی لیٹر پر رہنے کے بعد صحت یاب ہوجاتے ہیں۔ سائنسی جریدے ’’آئی سی جے ان سائٹ‘‘ میں شامل ہونے والی ایک تحقیق نے ماہرین طب کی یہ مشکل حل کردی ہے، اس تحقیق کے مطابق تیز رفتار بلڈ ٹیسٹ محض ایک دن میں بتاسکتا ہے کہ کورونا کے کون سے مریض میں آئندہ چند دنوں میں پیچیدگیاں پیدا ہوں گی اور ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور کن میں ہیں ۔ اس ٹیسٹ میں خون کے نمونے سے مائٹوکونڈریل ڈی این اے کو ناپا جاتا ہے اور اس کی مقدار سے نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔ اس تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ کورنا کے وبائی مرض کا سب سے زیادہ اذیت ناک پہلو یہ ہے کہ ڈاکٹرز مریض کی کیفیت کے حوالے سے پیشن گوئی کرنے سے قاصر ہیں تاہم اب اس ٹیسٹ کی مدد سے اسپتال میں داخل ہونے والے نئے مریضوں کی بیماری کی نوعیت شدید ہونے کا پیشگی پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ جن میں دل، سانس لینے والی نالی، پھیپھڑے اور گردوں کا ناکارہ ہوجانا شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی کا مائٹوکونڈریل ڈی این اے ٹیسٹ میں لیول زیادہ آتا ہے تو ایسے مریض کو فوری طور پر انتہائی نگہداشت میں رکھا جائے اور اس کے اعضائے رئیسہ کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اگر لیول 10 فیصد بڑھ جائے تو سانس میں لینے میں دقت ہوتی ہے اور مریض کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

“مزید پڑھیں “تمباکو نوشی کرنے والے افراد پر کوڈ 19 کا اثر

Leave a Reply

Your email address will not be published.